باغپت 5/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) یوگی ادتیہ ناتھ کے انکائونٹر پردیش میں آج ایک کانگریسی خاتون لیڈر منی بیگم کا کچھ بدمعاشوں نے دن دھاڑے قتل کردیا۔ واقعہ باغپت کے پرانے قصبہ کے کیتی پورا محلہ میں پیر کی دوپہر کو پیش آیا۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بدمعاشوں نے دن دھاڑے گھر کے اندر گھس کر کانگریس کی اہم خاتون لیڈر منی بیگم پر گولیاں برسائیں اور اُسے ڈھیڑ کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔
چشم دید کے مطابق دوپہر کو تین بائیک سوار کیتی پور اکالونی میں واقع ان کے گھر میں گھس گئے اور منی بیگم کے سینے میں تین گولیاں داغ دیں، پھر اُسی بائک پر سوار ہوکر پل بھر میں نو دو گیارہ ہوگئے۔ منی بیگم نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
بتایا گیا ہے کہ ادھیڑ عمر کی منی بیگم سیوا دل کی ضلعی صدر تھیں۔ اس سے پہلےو ہ کانگریس پارٹی میں شہری زون کی بھی صدر رہ چکی ہیں۔گھروالوں کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے پہلے بھی ان پر اس طرح کا حملہ ہوا تھا جس میں وہ بچ گئی تھیں، جبکہ اس سے قبل سال 2012میں بھی ان پر اور ان کے بیٹے محمد نفیس پر حملہ ہو چکا ہے۔
گھروالوں نے بتایا کہ منی بیگم نے اپنی جان کو خطرہ ہونے کی بنا پر پولس سے کئی موقعوں پررجوع کیا تھا ، مگر پولس نے اس کے لئے کوئی سیکوریٹی فراہم نہیں کی۔
واردات کے بعد موقع پر پہنچےباغپت کے ایس پی جے پرکاش نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے قاتلوں کو پکڑنے کے لئے پولس کی ٹیمیں تشکیل دیں ہیں۔ ایس پی کے مطابق ’’ہم جلد ہی قتل کے پیچھے کے مقاصد تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔
قتل پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش کانگریس کے ترجمان وجیندر ترپاٹھی نے کہا کہ یہ ثبوت ہے کہ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ کی چنندا مڈبھیڑوں کو انجام دینے والی پولس کس طرح ریاست میں مجرموں کا حوصلہ بڑھا رہی ہے۔ان کے مطابق بڑی تعداد میں مجرموں کا گروپ ریاست میں کھلے عام گھوم رہا ہے اور سیاسی مخالفین کے قتل کو انجام دے رہا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعلی یوگی نے حال ہی میں دعوی کیا تھا کہ ریاست اُترپردیش کی پولس نے گزشتہ ایک سال میں 1200مڈبھیڑوں کو انجام دیا ہے جس میں 40مجرموں کو مار گرایا گیا ہے، یوپی سرکار کی جانب سے اس بات کا بھی دعویٰ کیا جارہا تھا کہ پولس انکائونٹر کے ڈر اور خوف کےمارے اب مجرم اپنے آپ کو پولس کے حوالے کررہے ہیں۔